| گرفتار
پاکستانی طالبعلم ضمانت پر رہا
|
| برمنگھم:برمنگھم
انٹرنیشنل ائر پورٹ پر گزشتہ روز گرفتار کئے جانے والے
پاکستانی طالب علم کو پولیس کی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
جبکہ نوجوان سے برآمد ہونے والی دستاویزات کے بارے میں
پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ برمنگھم انٹرنیشنل ائر پورٹ
پر سوموار اور منگل کی شب پاکستانی نوجوان کو اس وقت گرفتار
کرلیا گیا تھا جب وہ دبئی سے برمنگھم پہنچا تھا۔ پولیس
کے مطابق نوجوان سے برآمد دستاویزات دہشت گردی کے لئے
یا اس کی منصوبہ بندی میں استعمال
|
|
|
ہوسکتی
ہیں، پولیس نے یہ بھی بتایا کہ مذکورہ نوجوان برطانیہ
کے ایک تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم ہے اور برطانیہ میں
بطور طالب علم قانونی طور پر مقیم ہے۔ پولیس کے مطابق
گرفتاری ٹیرر ازم ایکٹ 2000 کی سیکشن 58 کے تحت عمل میں
لائی گئی ہے اور ائر پورٹ پر اسے شیڈول 7 کے تحت روکا
گیا ہے۔ برمنگھم میں پاکستان کے قونصلر اویس احمد خان
نی کہا ہے کہ وہ واقعہ کی اطلاع ملنے پر ویسٹ مڈلینڈز
پولیس سے رابطے میں ہیں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں پولیس
کی جانب سے باقاعدہ معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔ یاد رہے
کہ گذشتہ دو ماہ میں برمنگھم کے مختلف علاقوں سے 16 کے
قریب نوجوانوں کو دہشت گردی کے شبے میں گرفتار کیا گیا
ہے لیکن ان کے خلاف پولیس نے کیا تحقیقات کی ہیں اور ان
کے کیس کس مرحلے پر ہیں اس سلسلے میں پولیس کی جانب سے
معلومات نہیں دی گئیں |
|
|
سوڈان سے اقوام متحدہ
نقل مکانی روکنے میں ناکام
|
لندن:
حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل
نے کہا ہے کہ مئی میں اقوام متحدہ کی امن فورس سوڈان
میں اْن سرکاری فوجیوں کو روکنے میں ناکام رہی جنھوں
نے 100,000 سے زائد افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی
طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کا
کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے فوجیوں نے ابیی نامی علاقے
میں شہری املاک پر سوڈانی سکیورٹی فورسز اور اْن کے
|
|
|
حامی
مسلح گروہوں کے حملوں کی روک تھام کے لیے معنی خیز کارروائی
نہیں کی۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ابیی میں مقیم
تمام افراد کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور اْن
کی تمام قیمتی اشیاء لوٹ لی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا
کہ سوڈانی فوج نے ابیی کو جنوبی سوڈان سے ملانے والے پل
کو بھی تباہ کر دیا تاکہ شہری اپنے علاقے میں واپس نا
آسکیں اور اقوام متحدہ کے فوجیوں نے اس کے خلاف کوئی اقدام
نہیں کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سابق فوجیوں نے بتایا کہ
سوڈانی سکیورٹی فورسز سے لڑائی نا کرنے کا فیصلہ کیا گیا
تھا کیوں کہ وہ امن فورس سے زیادہ مسلح تھے۔ ان دعوؤں
پر اقوام متحدہ کی جانب سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا
گیا ہے۔ |
|
|
امریکا کا عراقی نائب
صدر کے وارنٹ پر اظہار تشویش
|
واشنگٹن:
امریکا نے عراقی نائب صدر طارق الہاشمی کے وارنٹ گرفتاری
کے اجراء پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ واشنگٹن میں وائٹ
ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے کہا کہ ہم عراق کے نائب
صدر طارق الہاشمی کے خلاف وارنٹ گرفتاری کے اجراء سے
متعلق رپورٹس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم نے تمام فریقوں
سے بات چیت کی ہے اور اس حالیہ پیش رفت پر اپنی تشویش
کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکا کے نائب صدر جوبائیڈن نے
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی سے
|
|
|
ٹیلی
فون پر بات چیت کرتے ہوئے ان پر ملک میں جاری سیاسی بحران
کے حل کے لیے دوسرے سیاسی بلاکوں کے لیڈروں سے بات چیت
کرنے پر زور دیا تھا۔ یاد رہے کہ بغداد میں ایک عدالت
نے عراق کے نائب صدر طارق الہاشمی کے خلاف سوموار کو دہشت
گردی کے قانون کی دفعہ چار کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری
کیا۔ ان پر عراقی پارلیمنٹ کو بموں سے اڑانے کا الزام
ہے۔ اس سلسلے میں عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے خود
مختار شمالی صوبہ کردستان کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ
وہ نائب صدر طارق الہاشمی کو مرکزی حکومت کے حوالے کریں۔
دوسری جانب طارق الہاشمی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خلاف لگائے
گئے الزامات کا دفاع کریں گے لیکن ان کا اصرار ہے کہ کیس
کی سماعت کردستان کی عدالت میں ہو کیونکہ ان کو شک ہے
کہ بغداد میں حکومت اثر انداز ہو کر انصاف کی راہ میں
رکاوٹ بن جائیگی۔ طارق الہاشمی نے مزید مطالبہ کیا کہ
عدالتی کاروائی عرب لیگ کے نمائندوں کی نگرانی ہو جسے
عراقی حکومت نے مسترد کر دیا۔ اسکے علاوہ عراقی وزیر اعظم
نوری المالکی نے دھمکی دی تھی کہ اگر پارلیمان نے ان کے
نائب صالح المطلق کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حق میں
ووٹ نہ دیا تو وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ |
|
|
لگتا ہے پاکستان نیٹو
سپلائی جلد بحال کر دیگا، امریکہ
|
واشنگٹن:
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ پاکستان کے
ساتھ تعلقات گھمبیر ہونے کے باوجود انھیں برقرار رکھنا
ناگزیر ہے۔ جبکہ حالیہ دنوں میں ملنے والے اشاروں سے
معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نیٹو سپلائی جلد کھول دیگا۔
پینٹاگون کے ترجمان جان کربی اور جارج لٹل نے صحافیوں
کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات
مشکلات کا شکار ضرور ہیں لیکن یہ تعلقات انتہائی ضروری
بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے مشترکہ
|
|
|
مفادات
کو خطرات لاحق ہیں۔ دونوں ملکوں کو ایک جیسے معاملات میں
خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان سے تعلقات کی بہتری کے لیے
کوششیں جاری ہیں۔ ترجمان امریکی محکمہ دفاع نے کہا کہ
حالیہ واقعات سے اشارہ ملا ہے کہ نیٹو سپلائی روٹس جلد
بحال ہوجائیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس
متبادل راستے بھی ہیں لیکن ان پر وقت اور پیسہ زیادہ لگتا
ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ نیٹو حملے نے پہلے سے چیلنجز
کا سامنا کرنیوالے پاکستان کی مشکلات میں اور بھی اضافہ
کر دیا ہے۔ اس حملے کی تحقیقاتی رپورٹ 23 دسمبر کو مکمل
ہوگی جسے میڈیا کے سامنے پیش کیا جائیگا۔ ان کا کہنا تھا
کہ دونوں ممالک کو مشترکہ خطرات کا سامنا ہے اس لئے امریکا
طویل المدت تعلقات کے لئے پرعزم ہے۔ دہشت گرد امریکا اور
پاکستان دونوں کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان
کیساتھ مستحکم تعلقات کی بحالی اگرچہ مشکل ہے لیکن سخت
محنت کے ذریعے اسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ |
|
|
صدر اوباما اور ریپبلیکنز
کے اختلافات میں شدت
|
واشنگٹن:
امریکہ میں ٹیکسوں پر چھوٹ کے معاملے پر اوباما انتظامیہ
اور ری پبلیکنز میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ امریکی
خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر
ایوانِ نمائندگان نے سال کے اختتام تک ٹیکسوں میں دی
گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو لگ بھگ سولہ کروڑ امریکیوں
کو اوسطاً سالانہ ایک ہزار ڈالرز فی کس اضافی ٹیکس دینا
پڑے گا۔ امریکہ کے صدربراک اوباما نے ایوانِ نمائندگان
پر زور دیا ہے کہ وہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں
دی گئی
|
|
|
چھوٹ
میں توسیع کے اس قانون کی منظوری دے جسے سینیٹ نے گزشتہ
ہفتے منظور کرلیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا
ہے کہ صدر اوباما نے ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر
جان بینر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ہنگامی اقدام کے
طور پر ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ میں دو ماہ کی توسیع کی
منظوری پہ زور دیا۔ بیان کے مطابق گفتگو میں صدر کا کہنا
تھا کہ قانون میں دو ماہ کی توسیع کے بعد ڈیموکریٹس اور
ری پبلکن قانون ساز وں کو قانون کی مدت میں مزید ایک سال
کی توسیع کے منصوبے پہ مذاکرات کا وقت میسر آجائے گا جس
کا مطالبہ ریپبلکنز کر رہے ہیں۔ قبل ازیں مجوزہ قانون
پہ سینیٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کے
اراکین کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہاؤس اسپیکر
جان بینر نے ڈیموکریٹس کو منصوبے پر بات چیت دوبارہ شروع
کرنے کی تجویز دی تھی۔ری پبلکن رہنماؤں نے یہ تجویز ایک
ایسے وقت میں پیش کی ہے جب سینیٹ اراکین کی سالانہ تعطیلات
شروع ہوچکی ہیں۔ واضح رہے کہ ری پبلکن ایوانِ نمائندگان
میں اکثریت رکھتے ہیں جب کہ سینیٹ کا کنٹرول صدر اوباما
کی جماعت ڈیموکریٹس کے پاس ہے۔ دریں اثنا ایوانِ نمائندگان
کے ڈیموکریٹ رکن اسٹینی ہوئر نے کہا ہے کہ رائے عامہ کے
حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام سینیٹ کے
جانب سے گزشتہ ہفتے منظور کیے گئے قانون کے حامی ہیں۔
تنخواہوں پہ نافذ ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم ''نیشنل
ریٹائرمنٹ سسٹم'' سے مستفید ہونے والے افراد کے لیے مختص
کی جاتی ہے اور اگر آئندہ دس روز کے دوران کانگریس نے
دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو تنخواہ دار طبقے پہ عائد
ٹیکسوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ امریکی ایوانِ نمائندگان
نے مذکورہ قانون میں دو ماہ کی توسیع کے بل پہ رائے شماری
معطل کرتے ہوئے ڈیموکریٹس سے کہا تھا کہ وہ قانون میں
ایک سال کی توسیع کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع کریں۔
اجلاس کے بعد ایوان کے اسپیکرجان بینر نے صحافیوں سے گفتگو
میں کہا تھا کہ ایوان کے ری پبلکن اراکین نے اپنا فرض
پورا کر دیا ہے اور اب تاخیر کی ذمہ داری سینیٹ پہ عائد
ہوگی۔ ایوانِ نمائندگان کی جانب سے سینیٹ کے منظور کردہ
بِل کی منظوری نہ دیے جانے پر صدر اوباما نے سخت برہمی
ظاہر کی تھی۔ اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایوان کے اسپیکر
اور ری پبلکن اراکین سے کہا تھا کہ وہ سیاست اور اختلافی
امور کو ایک طرف رکھ کے ان معاملات پہ پیش رفت کریں جن
پر دونوں جماعتیں متفق ہوچکی ہیں۔ صدر اوباما نے کہا تھا
کہ امریکی عوام اس کھیل سے تنگ آچکی ہے اور اس سے کہیں
بہتر سلوک کی مستحق ہے۔ ڈیمو کریٹ سینیٹرز پہلے ہی واضح
کرچکے ہیں کہ ان کا سال کے اختتام سے قبل کسی نئے معاہدے
کے لیے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔ وہائٹ ہاؤس کا کہنا
ہے کہ اگر ایوانِ نمائندگان نے سال کے اختتام تک ٹیکسوں
میں دی گئی چھوٹ میں توسیع نہ کی تو لگ بھگ سولہ کروڑ
امریکیوں کو اوسطاً سالانہ ایک ہزار ڈالرز فی کس اضافی
ٹیکس دینا پڑے گا۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق قانون کی منظوری
نہ دیے جانے کی صورت میں تقریباً بیس لاکھ بیروزگار امریکی
بھی انہیں دستیاب انشورنس سے محروم ہوجائیں گے۔ |
|
|
ایران پر فضائی حملے
کا منصوبہ بنا رہے ہیں، امریکہ
|
واشنگٹن:
امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں
سے لیس ایران کسی صورت قبول نہیں جبکہ امریکی فوج کے
سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا ہے کہ پنٹاگان تہران
کی ایٹمی تنصیبات پر فضائی حملہ کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
امریکی ٹی وی سے انٹرویو میں لیون پنیٹا نے کہا کہ جوہری
پروگرام کے بعد ایرانی رہنما ایک سال کے اندر جوہری
ہتھیار بھی بنا سکتے ہیں اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی
کا انتظام کر رکھا ہے تو جوہری ہتھیار بنانے میں اور
بھی
|
|
|
تیزی
لائی جا سکتی ہے ایران کا جوہری پروگرام نہ صرف امریکہ
بلکہ اسرائیل کے لئے بھی خطرہ ہے۔ اگر ایران نے جوہری
ہتھیاروں کے حصوں کی جانب پیش قدمی کی تو امریکہ فوجی
آپریشن سمیت ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔ جنرل مارٹن ڈیمپسی
نے کہا کہ پنٹاگان ایران کی ایٹمی تنصیبات پر فضائی حملہ
کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصوں
سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ جنرل ڈیمپسی کے
مطابق اس حملہ میں اسرائیل بھی امریکہ کا ساتھ دے سکتا
ہے۔ |
|
|
افغانستان سے واپسی
مرحلہ وار ہوگی، امریکا
|
واشنگٹن:
وائٹ ہائوس کے ترجمان جے کارنی نے کہا ہے کہ افغانستان
سے امریکی فوج کی واپسی مرحلہ وار ہوگی، افغان فورسز
کو مکمل کنٹرول دینے میں وقت لگ سکتا ہے۔ واشنگٹن میں
میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفننگ دیتے ہوئے ترجمان
کا کہنا تھا کہ امریکی افواج افغانستان میں 2014 کے
بعد بھی رہ سکتی ہے۔ اس ضمن میں جنرل جان ایلن کا بیان
واشنگٹن کی پالیسی سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ واضح رہے
کہ افغانستان میں امریکی فوج کے سینئر کمانڈر جنرل جون
|
|
|
ایلن
نے امریکی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ
امریکی فوج 2014 کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہ سکتی
ہے، افغانستان کی تعمیر اور بحالی کیلیے طویل مدت کے فوجی
اور سویلین معاہدوں کی ضرورت ہے۔ جنرل ایلن نے یہ بھی
کہا تھا کہ 2014 کے بعد بھی افغانستان میں غیر ملکی افواج
کی موجودگی عسکریت پسندوں کے لیے دھچکا ہوگی۔ |
|
|
بیلاروس پر پابندیوں
کا بل اتفاق رائے سے منظور
|
واشنگٹن:
امریکی ایوان نمائندگان نے بیلاروس کے خلاف پابندیوں
کو مزید سخت کرنے کے بل کی منظوری دیتے ہوئے بیلاروس
سے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ غیرملکی
خبررساں ادارے کے مطابق بیلاروس پر پابندیوں کا بل گزشتہ
ہفتے سینٹ سے منظوری کے بعد ایوان نمائندگان میں اتفاق
رائے سے منظور کر لیا گیا۔ صدر اوبامہ کی جانب سے دستخط
ہونے کے بعد بل پر عملدرآمد ہو گا۔ نئے بل میں بیلاروس
نے امریکہ کا ویزہ حاصل نہ کر سکنے
|
|
|
والے
سرکاری حکام کی فہرست میں اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی 2010ء
کے انتخابات کے بعد مظاہرین پر حکومتی کریک ڈاؤن میں ملوث
بعض حکومتی اہلکاروں پر بھی اقتصادی پابندیاں لگائی گئی
ہیں۔ بل میں عالمی ہاکی فیڈریشن کو بھی 2014ء میں ورلڈ
آئس ہاکی چیمپئن شپ کے بیلاروس میں انعقاد سے گریز کرنے
پر زور دیا ہے۔ بل میں بیلاروس سے 2010ء کے انتخابات کے
بعد مظاہروں سے گرفتار ہونے والے تمام سیاسی قیدیوں کی
رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ مظاہروں میں لگ بھگ 700
سیاسی کارکن گرفتار کئے گئے تھے۔ بل میں 2010ء کے انتخابات
کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے نئے صدارتی انتخابات کرانے
کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ |
|
|
کیوٹو معاہدے سے دستبرداری،
کمپنی گاہک سے محروم
|
اوٹاوا۔
ایک برطانوی کمپنی نے کیوٹو معاہدے سے علیحدگی کے بعد
کینیڈین کمپنی سے خریداری نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
مذکورہ فیکٹری شیشے کا کام کرتی ہے جس نے تھنک گلاس
نامی کیوبیک کی کمپنی سے سودے منسوخ کئے ہیں۔ واضح رہے
کہ کیوٹو معاہدے کی معیاد آئندہ سال ختم ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ اس معاہدے کے تحت کینیڈا اس بات کاپابند
تھا کہ وہ اپنے ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسز کے
اخراج کو انیس سو نوے والی سطح پر لے کر جائے اورترقی
پذیر
|
|
|
ممالک
کی مدد کرے۔ کینیڈا نے انیس سو ستانوے میں معاہدے پر دستخط
کئے تھے۔ وزیر ماحولیات پیٹر مک کے کا کہنا ہے کہ کیوٹو
معاہدے سے علیحدگی سے ہمیں جرمانوں کی مد میں ادا کی جانیوالی
چودہ بلین ڈالرز کی بچت ہو گی۔ |
|
|
اٹلی، سینیٹ میں ارکان
کی ہلڑ بازی
|
روم:
پاکستان سمیت کئی ملکوں کی طرح اٹلی کی سینیٹ میں بھی
ہنگامہ آرائی ہوئی اورسپیکر صرف ارکان کوخاموش ہی کراتے
رہ گئے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٹلی کی نئی
حکومت کے خلاف شمالی لیگ سینٹرز نے ہنگامہ آرائی کی۔
ہنگامہ آرائی اس وقت ہوئی جب وزیراعظم مونٹی کی حکومت
نے 33 بلین کے بچتی پیکچ پر ایوان بالا میں اعتماد کا
ووٹ حاصل کرنا تھا۔ اسپیکر کہتے رہے کہ یہ پارلیمنٹ
کی توہین ہے، خاموشی اختیار کی جائے لیکن مظاہرین کسی
طرح سکون نہیں لے رہے تھے، شرم کرو کے بینرز اٹھالیے
اور نعرے بازی کی۔
|
|
|
|
شام میں پانچ ایرانی
انجینئرز اغواء
|
تہران:
دمشق میں ایرانی سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا کہ نامعلوم
مسلح افراد کے ایک گروپ نے بدھ کو ایک پاور پلانٹ پراجیکٹ
پر کام کرنے والے پانچ ایرانی انجینئروں کو اغواء کر
لیا۔ خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق سفارتخانے نے اغواء
کنندگان سے کہا ہے کہ ان اغواء کئے گئے انجینئروں کو
فی الفور رہا کر دیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں بدھ
کو علی الصبح اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ حمص میں اس
پراجیکٹ پر کام کرنے جا رہے تھے۔ عوامی بیداری کی
|
|
|
جس
لہر نے شام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے حمص کا مغربی
شہر اس کا گڑھ ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق دمشق میں
ایرانی سفارتخانے نے ایک بیان میں شام میں پانچ ایرانی
انجینئروں کے اغواء کی تصدیق کی ہے اور اغواء کنندگان
سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو فی الفور رہا کر دیا جائے۔ |
|
|
قذاقوں کی قید سے اطالوی
اور بھارتی باشندے رہا
|
روم:
صومالی قذاقوں نے گیارہ ماہ بعد اطالوی آئل ٹینکر کو
چھوڑ دیا عملے کے بائیس افراد رہا۔ غیرملکی خبر رساں
ادارے کے مطابق صومالی قذاقوں نے اس سال جنوری میں اطالوی
آئل ٹینکر کو عملے کے بائیس افراد سمیت اغواء کر لیا
تھا اور گیارہ ماہ بعد گزشتہ روز جہاز کو عملے سمیت
چھوڑ د یاہے۔ گیارہ ماہ صومالی قذاقوں کے قبضے میں رہنے
والے عملے میں پانچ اطالوی اور سترہ بھارتی باشندے تھے۔
|
|
|
|
لبنان میں القاعدہ کی
مودجودگی پر وزیردفاع کی تشویش
|
بیروت:
لبنان نے ملک میں القاعدہ کی موجودگی پر تشویش کا اظہار
کیا ہے، جبکہ حزب اختلاف نے مذکورہ دعوے کی تردید کر
دی ہے۔ لبنان کے وزیر دفاع فائز غصن نے لندن سے شائع
ہونے والی عربی روزنامہ الحیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں
بات کرتے ہوئے کہا کہ ''انھیں شامی اپوزیشن کے ارکان
کے بہروپ میں القاعدہ کے جنگجوں کے ملک میں داخل ہونے
کی اطلاعات ملی ہیں اور لبنان میں اسلحہ بھی اسمگل کرکے
لایا جا رہا ہے''۔ لبنانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ
وہ ملک میں القاعدہ کے جنگجوں کے داخلے سے متعلق انٹیلی
جنس اطلاعات کے بارے
|
|
|
میں
کابینہ کو مطلع کریں گے تاکہ فوری طورپر ان کی سرگرمیوں
کی روک تھام کے سلسلہ میں کوئی کارروائی کی جا سکے۔ دوسری
جانب لبنانی حزب اختلاف نے اسلحہ کی اسمگلنگ کی اطلاعات
کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ سرحد پر شامی فورسز کی تعیناتی
سے اس طرح کی سرگرمیوں کو روک دیا گیا ہے۔ |
|
|
افغانستان میں آٹھ امریکی
فوجیوں پر فرد جرم عائ
|
کابل:
افغانستان میں اپنے ساتھی کو ہلاک کرنے کے الزام میں
آٹھ امریکی فوجیوں پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ افغانستان
کے صوبہ قندھار میں ایک چینی نژاد امریکی فوجی ڈینی
چن مردہ حالت میں پایا گیا تھا جس کی موت کو ابتدا میں
خود کشی کا رنگ دیا گیا۔ تاہم اس کے والدین کا موقف
ہے کہ ان کے بیٹے کو دیگر آٹھ امریکی فوجیوں نے نسلی
بنیاد پر بدسلوکی کا نشانہ بنایا اور قتل
|
|
|
کردیا۔
یہ واقعہ اکتوبر میں پیش آیا تھا۔ ان فوجیوں کوتین اکتوبر
کو انیس سالہ ساتھی فوجی ڈینی چن کی ہلاکت بارے متعدد
الزامات کا سامنا ہے۔ آٹھ امریکی فوجیوں میں سے پانچ پر
قتل خطاء کا الزام عائد کیا گیا ہے۔قتل خطاء اس الزام
کو کہتے ہیں جو ملزم کے عمل کی ناکامی یا کامیابی کی صورت
میں کسی کی موت پر منتج ہو۔ دوسرے الزامات میں بلا ارادہ
قتل، مجرمانہ حملہ، بدسلوکی، بے رحمانہ فعل اور فرض سے
لاپروائی کے الزامات شامل ہیں۔ امریکی قیادت میں انٹرنیشنل
سکیورٹی اسسٹنس فورسز (ایساف) کی ریجنل کمانڈ سائوتھ نے
کہا کہ جنوبی افغانستان میں تعینات آٹھ امریکی فوجیوں
پر اپنے ساتھی فوجی کی ہلاکت کے سلسلے میں الزامات عائد
کئے گئے ہیں۔ یہ واقعہ اکتوبر میں رونما ہوا۔ یہ فوجی
ایک گارڈ ٹائور میں مردہ پایا گیا تھا۔ اس کے جسم پر بظاہر
خود ماری جانے والی گولیوں کے نشانات تھے، جن امریکی فوجیوں
پر اس کی ہلاکت کا الزام عائد کیا گیا ہے ان میں ایک فرسٹ
لیفٹیننٹ ہے جس پر فرض سے غفلت کے آٹھ الزامات عائد کئے
گئے ہیں۔ دو سٹاف سارجنٹ، تین سارجنٹ اور دو سپیشلسٹ شامل
ہیں۔ ان کا تعلق سی کمپنی، تھرڈ بٹالین، 125 ویں انفنٹری
رجمنٹ فرسٹ سکائی بریگیڈ کمباٹ ٹیم، 125 ویں انفنٹری ڈویژن
سے ہے۔ |
|
|
افغانستان میں ریل کا
سفر شروع
|
کابل:
افغانستان نے گزشتہ روز اپنی پہلی ٹرین چلا دی ہے جبکہ
افغان حکام نے ابتدائی مرحلے میں مزار شریف سے حیرتان
بندرگاہ تک اس تجربے کو مجوزہ ریلوے نیٹ ورک کی ترقی
کی بدولت چین اور بھارت کے قریب ہونے کی وجہ سے ملک
کے علاقائی اقتصادی مرکز بننے کے لئے سنگ میل قرار دیا
ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مزار شریف سے افغان ترکمانستان
سرحدی علاقے اندخوئی تک ریلوے ٹریک کو فعال کرنے پر
بھی کام جاری ہے۔ برطانوی خبر رساں
|
|
|
ادارے
کے مطابق پبلک ورکس کے نائب وزیر نورگل مینگل نے کہا کہ
شمالی شہر مزار شریف سے پڑوسی مسلم ملک ازبکستان کی سرحد
پر واقع حیرتان بندرگاہ تک ایک سال قبل بچھائی گئی ریلوے
لائن پر تجرباتی طور پر سامان کے بغیر مال گاڑی چلائی
گئی جس نے 75 کلومیٹر تک کامیابی سے سفر کیا۔ |