﴾جرنلسٹ پروٹیکشن
ا ینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن ﴿JPWA (جپوا)
پہلا قدم اٹھانے سے ہی چالیس ہزار میل کا فاصلہ طے ہوتا
ہے بیٹھے رہنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا (چینی کہاوت)
(صحافیوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کا عالمی ادارہ )
٭تعارف٭
جپوا (صحافیوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کا عالمی ادارہ
)J.P.W.A زمانہ کی رفتار ماضی ،حال اور مستقبل کی خبر گیری
کے لئے ہر لمحہ شب و روز دنیا کے طول و عرض پر رونما ہونے
والے واقعات کی منظر آرائی و آگہی کرنے والے جنگ و جدل حوادث
زمانہ ،سماجی اور معاشرہ کی ضروریات خوراک ،لباس ،رہائش
،سفر، تعلیم و تربیت ،بیماری و صحت علاج و معالجہ ،کاروبار
تجارت ،ظلم و تشدد ،زندگی اور موت ،بقائ اور فنا سے نبرد
آزمانوع انسان کی کیفیات مشاہدات واقعات اور حقائق کو بذریعہ
اخبارات رسائل و جرائد سمعی و بصری (ریڈیو ،ٹیلیویثرن ،آئی
ٹی ٹیکنالوجی ،الیکٹرونک میڈیا)کو حرکت اور وجود دینے والے
انسان کو صحافی کہا جاتا ہے۔
عصر حاضر میں صحافت کے فروغ اور صحافیوں کی عزت نفس کو بحال
رکھنے اور ان کے جائز حقوق کی نگہداشت کے لئے غیر سرکاری
اور غیر سیاسی فلاح و بہبود کا عالمی ادارہ قائم کیا ہے
جو خالصتاً اور خصوصی طور پر شعبہ صحافت سے وابستہ افراد
کے لئے بنایا گیا ہے جس میں صح فیوں اور صحافتی اداروں کے
بنیادی حقوق اور ان کو در پیش دیرینہ مسائل کے حل کو اولیت
دی جائے گی۔
جرنلسٹ پروٹیکشن ویلفیئر ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ)(JPWA)(جپوا)اخبارات
اور چینلز الیکٹرونک میڈیا میں خدمات انجام دینے والے ہر
شعبہ کے کارکن کو عالمی ملکی ،شہر شہر ،کوچہ کوچہ ،قریہ
قریہ خبر پہنچانے کا اہم فریضہ ادا کرنے پر انکو صحافی قرار
دیتی ہے۔جپوا نے اخبارات اور چینلز (نیوز)میں صحافی غیر
صحافی عامل صحافی کی اصطلاح کو جو کارکنوں کو تقسیم در تقسیم
کر دیتی ہے خاتمہ کا انقلابی اعلان کر دیا ہے۔اور اب صرف
ان تمام ایڈیٹر ز،رپورٹرز، فوٹو گرافر ز،نمائندگان نامہ
نگار ،وقائع نگار ،سرکولیشن اخبار ترسیل کرنے والے ہاکرز
و دیگر کارکنان کو صحافی جانتی اور پکارتی ہے۔حفظ مراتب
اپنی جگہ فوج میں کام کرنے والے چاہے وہ سپاہی لانس نائیک
حوالدار،صوبیدار ،ہو یا کیپٹن مےجر، کرنل یا جنرل سب کو
فوجی کہا جاتا ہے اسی طرح میڈیا میں کام کرنے والا ہر کارکن
صحافی ہے۔
شعبہ صحافت اور صحافی۔
شعبہ صحافت کسی بھی ملک میں چوتھے ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ
شعبہ دنیا میں کسی بھی ملک و قوم کی ترقی میں انتہائی موثر
اور اہم کردار ادا کرتا ہے۔ملکی نظم و نسق چلانے والوں اور
عوام کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت بھی رکھتا ہے سرکاری
اداروں میں کاموں کو فروغ اور کرپشن ختم کرنے میں سنگ مےل
ثابت ہوتا ہے،اس کے علاوہ الےکٹرونک مےڈےا کے صحافتی کارکنوں
اور صحافےوں کی محنت سے دنےا بھر مےں خبروں کو تصوےری شکل
مےں دکھا ےا جاتا ہے،واضح رہے کہ ہر طرح کے ملکی حالات کی
پرواہ کئے اپنے ملک و قوم کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریخ
نہیں کرتے اور ملکی اندرونی و بیرونی ہر طرح کی صورتحال
پر بھی کڑی نگاہ رکھتے ہیں بلکہ مزید پیش آنے والے واقعات
اور حادثات کی حالات کے مطابق آگاہی دیتے ہیں۔
لیکن صدافسوس۔
مختلف حکومتوں نے آج تک صحافیوں پر کئے جانے والے پر تشددواقعات
اور زیادتیوں کا نہ ہی نوٹس لیا اور نہ ہی اس کا ازالہ کیا
جبکہ صحافیوں نے متعدد بار ریاستی تشدد اور پولیس کی ظالمانہ
کاروائیوں اور زیادتیوں پر حکومتوں کو احتجاج بھی ریکارڈ
کرا یا اور باقائدہ حکومتی اراکین کو شکایات بھی درج کرائیں
لیکن کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی
بلکہ صحافیوں کی عز ت نفس اور وقار کو مجروح کیا گیا اور
بار بار بدتمیزی ،مارپیٹ اور خودساختہ جھوٹے مقدمات قائم
کئے گئے۔
ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں پوری دنیا ترقی کے منازل طے
کر رہی ہے لیکن صحافیوں کے لئے قوانین رائج نہ ہو سکے۔
ہم کہاں کھڑے ہیں ؟
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ شعبہ صحافت کے پیشے
اور شعبہ سے وابستہ بہت سے افراد کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے
پر مجبور ہیں جبکہ مختلف حکومتوں نے شعبہ صحافت سے تعلق
رکھنے والے افراد کے جائز حقوق کو پس پشت ڈال کر ملک کے
اہم ستون سے چشم پوشی ہی نہیں کی بلکہ حقوق اور سچائی سے
نظریں چرا کر خود نمائی کو فروغ دے رہے ہیں اس عرصے میں
سرکاری یا سماجی سطح پر کوئی اہم کردار ادا نہ کر کے حکومتی
عہدیداران اپنے عہدوں سے غفلت کے مرتکب پائے گئے ہیں اور
پرنٹ و الیکٹڑونک میڈیا کو سستی شہرت اور خودنمائی کے لئے
بے دریغ استعمال کیا ہے یقیناً پاکستان اب ترقی یافتہ ممالک
کی صف میں موجود ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بنیادی
مسائل کو حل کرنے کے لئے وسائل کا ہونا اشد ضروری ہے لہذا
برسوں سے بگڑے نظام کو ایک رات میں درست نہیں کیا جا سکتا
ہے بلکہ اس کے حل کے لئے آپ کا متحد ہونا لازمی ہے تمام
سینیئر و جونیئر و سابقہ اور موجودہ قابل احترام صحافی ساتھیوں
آپ کی تعداد لاکھوں میں ہے آپ پڑھے لکھے ذی شعور ذہین و
فہمےدہ ہیں۔آپ لوگوں کے کندھوں پر اپنے وطن عزیزکے کروڑوں
انسانوں کے مصائب ہیں آپ مسائل کو میڈیا کے ذریعے جدید انداز
سے پیش کرنے کا سلوب جانتے ہیں مسائل سے ٹکرانے کے لئے آپ
کو مضبوط اور متحد ہو کر JPWA کے پرچم کو بلند کرنا ہوگا۔
٭خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی٭٭نہ ہو جس کو خیال
خود اپنی حالت کے بدلنے کا ٭
آئیے ہمارے ساتھ عہد کریں کہ ہمیں تمام کام خود اپنی ہمت
اور قوت ارادی سے کرنے ہوں گے اور ایک دوسرے پر دشنام طر
ازی یا بے جا تو قعات وابستہ کرنے سے خرابی اور مایوسی کے
سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ہم سب کو اپنے جائز حقوق کے حصول
کے لئے اپنے اپنے فرائض پورے کرنے ہونگے تا کہ برسوں سے
مسلط گھورا ندھیرے چھٹ جائیں اور جس سحر کی امید ہے وہ بر
آئے ؟؟؟؟
ےاد رکھئے گھور اندھیرے کو صرف ایک دیا بھی شکست دے سکتا
ہے۔
JPWA کا قیام ہونے والے اس سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے ؟؟
فرد قائم رابط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں ٭٭٭٭موج ہے دریا
میں بیرون دریاکچھ نہیں
نے شعبہ صحافت اور اس سے وابستہ
صحافیوں کے لئے درج ذیل لائحہ عمل ترتیب دیا ہے۔JPWA
﴾ہمارا لائحہ عمل ﴿
۔جرنلسٹ ٹریننگ سینٹر کا قیام ،جہاں رپورٹنگ ،فوٹو گرافی
،پیسٹنگ ،مارکیٹنگ ،ایڈورٹائزنگ ،بزنس ،اور کمپیوٹر کورسز
سکھانے کا اہتمام کیا ہے۔
۔اےک اےسے فلاحی پریس کلب کا قیام جہاں سے 24 گھنٹے ہیلپ
لائن کے تحت ہر قسم کی امداد شعبہ صحافت کے لئے یقینی بنائی
جائے گی۔
۔صحافیوں کے تحفظ اور عزت نفس کو برقرار رکھنے کے لئے وفاقی
اور صوبائی حکومتوں سے قانونی حقوق دلوائے جائیں گے۔اور
صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے قوانین رائج کرائے جائیں
گے۔
۔صحافیوں کے لئے باقائدہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات
کے لئے بھی پرنٹ میڈیا و الیکٹرونک میڈیا کے مالکان سے مسائل
بھی حل کروانا ہے۔
۔صحافیوں کے لئے فری ایمبولینس کا قیام۔
۔صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کے لئے ہسپتال کا قیام۔
۔فری میڈیکل برائے صحافی اور ان کے اہل خانہ کے لئے۔
۔اعلیٰ تعلیم برائے صحافی اور ان کے اہل خانہ کے لئے۔
۔فری لیگل ایڈ برائے صحافی اور ان کے اہل خانہ کے لئے۔
۔ہر صحافی کا اپنا گھر رہائشی اسکیم کے تحت رہائشی کالونیوں
کا قیام تمام تر سہولیات کیساتھ۔
۔لائبریریز اور کمیونٹی سینٹرز کا قیام۔
۔ایمرجنسی کی صورت میں صحافیوں کے لئے سگنل فری کی سہولت۔
۔ جنلزم کے طلبائ کے لئے اسکالر شپ اسکیمز کا ۔
۔صحافی برادری کے گھر (اسپشل )فرد ہونے کی صورت میں مدد
کرنا۔
۔ہنگامی حالات اور قدرتی آفات میں حکومت سے رضا کارانہ ٹریننگ
اور معاونت کا اہتمام کرانا۔
۔شعبہ اطلاعات کی جانب سے اعلان شدہ میڈیا انشورنس پلان
کو حقیقی معنوں میں صحافیوں کے لئے موثر بنانا۔
۔بزنس مین کمیونٹی کے درپیش مسائل کو حل کر کے باہمی رابطہ
کا اہتمام کرنا۔
۔صحافیوں کے لئے ہنگامی حالت میں سےکےورےٹی کا بندوبست۔
۔صحافےوں کے لئے وقتاً فوقتاً تحائف اور ایوارڈز اسکیمز
کا۔
۔بین الا قوامی رابطوں کی بحالی میں صحافی برادری کی معاونت۔
۔صحافی برادری کے لئے آسان شرائط پر قرضوں کا حصول یقینی
بنانا۔
۔صحافی برادری کے دوران سفر مزید ڈسکاﺅنٹ کا پیکج۔
۔صحافیوں کے درمیان تحریری و تقریری مقابلوں کا انعقاد اور
فوٹو گرافروں کے درمیان تصویری مقابلوں کا انعقاد۔
۔اخبارات کی تیاری میں استعمال کی جانے والی اسٹیشنری کی
سہولت 24 گھنٹے جپوا کے آفس میں درکار۔
۔تمام اخبارات اور چینلز کے ملازمین کے لئے ویج بورڈ کے
تحت تنخواہوں کا انعقاد۔
۔E.O.B.I. ایمپلائمنٹ اولڈ ایچ بینیفٹ اسکیم اخبارات چینلز
اور ہاکرز کے لئے رجسٹریشن کو یقینی بنوانا۔
۔صحافی برادری کو Seesiسے متعلقہ تمام سہولیات کی فراہمی
یقینی بنوانا۔
(یقینا اللہ رب العزت اس کی مدد فرماتا ہے جو اپنی مدد آپ
کے لئے اپنے پیکر خاکی میں جان پیدا کرے )
الحمدللہ جپوا نے اپنی انقلابی جدو جہد کا با ضابط اور باقاعدہ
آغاز کر دیا ہے، جہاں سے مورخہ ےکم جنوری 2012ےعنی نئے سال
کے آغاز کے موقع پر صحافی برادری کے حوصلے بلند کرنے کے
لئے JPWA نے پہلا قدم اٹھا دیا ہے آپ بھی شریک سفر بنیں
ایک مضبوط کارواں خود بخود بنتا چلا جائے گا آپ دیرینہ حل
کے لئے ادارے کے ہاتھ مضبوط کریں ہم سب مل کر گراں قدر صلاحیتوں
کو جمع کر کے استعمال کریں اور ایک مثالی ادارے کے قیام
میں اپنا قومی کردار ادا کریں۔آئیں آپ اور ہم مل کر اس نیک
کام کا انتہائی نیک نیتی کے ساتھ آغاز کریں۔
میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ
قواعد و ضوابط کی پابندی لازمی ہوگی۔
ادارہ جرنلسٹ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن آپ کے عزت
ووقار اورآپ کے حقوق اور آپ کی اعلیٰ بصیرت کار کردگی کو
حقیقی رنگ دینے کے علاوہ آپ کے مسائل کے مکمل حل کے لئے
قائم کےا گےا ہے،۔اور ادارہ اپنی کارکردگی سے آپ کا ترجمان
ہوگا قلم کی حرمت اور صحافت کے تقدس کے لئے اپنا کردار ادا
کرے گا۔شعبہ صحافت کے فروغ اور آپ کے در پیش مسائل حل کر
کے قومی سطح پر حقوق کی آواز بلند کرے گا۔ملک میں سیاسی
،سماجی اور قومی حلقوں مےں اپنا کلےدی کردار ادا کرے گا،ملک
مےں سےاسی سماجی حلقوں مےں اپنا معاشرتی کردار ادا کر کے
ملک کو مزےد مستحکم بنانے انتھک محنت سے شعور اجاگر کرانا
ہے
آپ ادارے کے قواعد و ضوابط پر عمل پیرا رہ کر صحافت کے فروغ
کے لئے کام کر سکتے ہیں۔
۔ممبر بننے کے لئے سب سے پہلے ممبر شپ فارم بھر نا لازمی
ہے۔
۔رپورٹرایڈ یٹر اور مالکان کو درجے کے مطابق رتبہ حاصل ہوگا
اور درجے کا خیال رکھا جائے گا۔
۔ادارے کے ہر تعمیری کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔
۔کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے جرنلسٹ پروٹیکشن
اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن JPWA کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔
۔کسی بھی غیر قانونی وغیر اخلاقی سر گرمی میں ملوث ہونے
پر جرنلسٹ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن JPWA کی ممبر
شپ کینسل کر دی جائے گی۔
۔ایسوسی ایشن کے عہدے داروں کی عزت نفس اور حکم کا خاص خیال
رکھا جائے گا۔
۔ایسوسی ایشن میں اپنا مثبت کردار ادا کرکے JPWA سے وفا
کرنا ہوگی۔
۔JPWA ممبران اور عہدیداران کے رابطے کو بحال رکھنا ہوگا۔
۔ کے تشکیل کردہ پروگراموں پر صدق دل سے عمل در آمد کروا
کر خود بھی کار بند رہنا ہوگا۔JPWA
۔صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کے لئے میڈیکل ،لیگل تعلیم
،روزگار،دیگر شعبوں میں درجے کے حساب سے سب کے تعاون اور
مشورے سے مدد کی فراہمی يقينی بنائی جائےگی۔
۔ادارے کا ممبر شپ کارڈ گم یا خراب ہونے کی صورت میں ادارے
کو تحریری طور پر مطلع کرنا ضروری ہے۔
۔ادارے کے الیکشن ہر دوسال کے بعد کرائے جائیں گے۔
۔ فاونڈر ممبران مجلس عاملہ کے تاحیات ممبر رہیں گے۔JPWA
۔الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لئے لازمی ہے کہ
وہ 6 ماہ سے باقاعدہ ممبر ہو اور واجبات مکمل ادا کئے گئے
ہوں
٭٭ميں حلفيہ طور پر اقرار کرتا ہوں کہ ؟؟؟
٭۔میرا قلم میری سوچ اپنی ذات سے بڑھ کر شعبہ صحافت کی سر
بلندی کے لئے وقف ہوگی۔
٭۔اور نہ ہی کسی ایسے جرم کامرتکب ہوں گا اور نہ ہی معاونت
کرونگا جس سے ملک و قوم کو نقصان پہنچے گا۔
٭۔ کسی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت کے نظریئے سے متفق ہونے
کے باجود غیر جانبدارانہ صرف صحافت کرونگا۔
٭۔ادارے کے شناختی کارڈ اور پلیٹ فارم کو کسی بھی صورت غیر
قانونی و غیر اخلاقی کاموں ميں استعمال نہيں کرونگا ،(شکريہ)